بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے ❤️
مئی ۲۲ یہ ود دن ہےجب میں نےمکہ مکرمہ میں اپنا تیسرا عمرہ ادا کیا اور اس دن میں نے اپنے اللّہ سے اس بات کا شکواہ کیا کہ یا اللّہ جس نے بھی مجھے اور خاص طور پر میرے والدین کو تکلیف دی ہے بس اسے احساس دلا میری تکلیف تیرے سامنے ہےتو سب جانتا ہے یہ کہنا تھا اور معجزے جب ہوتے ہیں تو واقعی احساس ہوتا ہے اللّہ کتنا کریم ہے وہ اپنے بندے کی پکار جب سنتا ہے تو پھر معاملہ کتنا بھی مشکل ہو حل نکل ہی آتا ہے
اور وہی ہوا وہ شخص جس نے مجھے تکلیف دی تھی واپس آیا وہ تو واپس آنے والا معافی مانگنے والا انسان تھا ہی نہیں وہ آیا نہیں اسے لایا گیا تھا میری دعاؤں نے اپنا رنگ دکھا یا
یہ وہ انسان ہے جو اپنے ماں باپ کا نہیں ہوا وہ میرا کیا ہوگا جو اپنے سگے بھائیوں کا نہیں ہو پا یا وہ میرا کیا ہوگا وہ جیسے مجھ سے اپنی دوستوں کی برائیاں کرتا تھا ان کے کریکٹر کے بارے میں جو بتاتا تھااسکا اپنا کریکٹر کیا تھا مجھے ۲۴ مارچ کو اندازہ ہوا
میں اس سوچ میں تھا کہ مجھے دنیا کے سامنے ذلیل کرنے کی پوری کوشش کرنے کہ بعد اب یہ واپس آیا کیوں ہے تو پھر اندازہ ہوا نسل کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتی وہ آپ کو خوش کیسے دیکھ سکتے ہیں وہ لوگ آپ کو اپنی زندگی میں کیسے مصروف دیکھ سکتے ہیں وہ کیسے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ ترقیوں کی بلندیاں چھو رہے ہیں ایک با عزت لڑکی سے شادی ماں باپ کے ساتھ عمرہ گورنمنٹ نوکری الحمداللّہ یہ سب خوشیاں مجھے اس درد کے بعد ہی اللّہ نے عطا کی ہیں
جو شخص واپس آکر پہلی رات ہی ایسی باتیں بولے کہ اگر میں یہاں لکھ دوں تو اللّہ جانتا ہے آپ سب کی نظر میں اس کا کریکٹر ایک طوائف سے بھی نیچے گر جائیگا
یہ کہنا کہ ماضی کہ بارے میں بات نا کرنا جو ہوا بھول جاؤ میں یہاں ہمارے پیار کی خاطر آئی ہوں استغفراللہ پیار تو دور دور تک تھا ہی نہیں اور کسی نے کیا خوب کہا ہے پیا ررہے نا رہے عزت قائم رہنی چاہئے
مقصد مجھے میری شادی شدہ زندگی سے دور کرنا تھا اور وہ ایسے گھٹیا کام پہلے بھی کر چکی ہے
میں اسے عورت بھی نہیں سمجھتا عورت تو اللّہ کی بنائی ہوئی ایک معصوم مخلوق ہے مرد کی عزت کرنے والی مرد کو کچھ سمجھنے والی وہ تو عورت کہلا نے کے بھی قابل نہیں ہے
جو عورت یہ کہے کہ بھائیوں کو کون بتائے گا میں جب خود بات کر سکتی ہوں تو کچھ بھی کر سکتی ہوں میں کہہ رہا ہوں کہ اگر میں یہاں لکھ دوں کہ اس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کیا کیا ہے تو آپ لوگ نہیں پڑھ سکتے اور وہ مجھے یہاں لکھتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے
میں چاہتا تو بہت کچھ کر سکتا تھا لیکن الحمداللّہ اللّہ نے حفاظت فرمائی اور اپنے ماں باپ کو اسی دن اطلاع کیا ہر معاملے سے لیکن قربان جاؤں اپنے والدین پر کہا بیٹا کیچڑ میں پتھر ماروگے تم پر ہی آئے گا اس کی اوقات کا اندازہ ہوگیا کہ وہ کس کریکٹر کی عورت ہے
اسے اپنی زندگی سے دفا کرنے کے کچھ دن بعد پھر اس کے بھا ئی آتے ہیں اور وہی گھٹیا حرکتیں کرتے ہیں جو ان کا پیشہ ہے میں نے کہا ان لوگوں سے بات کرنا ان کے منہ لگنا ایک عزت دار انسان کے بس کی بات نہیں ہے
اور میں جب اس دن اس کے بھائی سے بات کرنے جا رہا تھا تب بھی بار بار مسیج آرہے تھے کہ میرے بھائیوں کو کچھ نا بتا نا اور میں نے پھر بھی اس عورت کی عزت رکھی میں اس کے بارے جو سچائی جانتا ہوں اگر اس وقت اس کے بھا ئیوں کو بتا دیتا یہ جو کرتوت اس نے کئے اس کے بھا ئیوں کو بتا دیتا تو میرے دل کو افسوس ہوتا مجھے اپنے کردار اور اپنی تربیت پر فخر ہے اور اس بات پر بھی کہ اللّہ نے مجھے بچائے رکھا الحمداللّہ
بے شک اللّہ بہت رحیم ہے کریم ہے اللّہ نے ۲۴ مارچ والا اس کا چہرہ مجھے دکھا یا اور میں شکر کرتا ہوں اپنے ماں باپ کا کہ انھوں نے میری خاطر وہ سب برداشت کیا
جو عزت کے قابل ہو تو اس کی عزت تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن جو عزت کے قابل بھی نا ہو اس کی عزت کی حفاظت کرنا تربیت کی بات ہے اور وہ اعلی ظرف لوگ ہی کرتے ہیں
آج میرا گورنمنٹ نوکری کاایک مہینہ مکمل ہو گیا ہے الحمداللہ زندگی میں اللّہ نے جو نعمتیں عطا کی ہیں اس پر اللّہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اب کچھ دنوں میں الحمداللّہ میری بیوی رخصت ہوکر میرے گھر آجائیگی زندگی اتنی سکون میں آجائیگی میں نے سوچا بھی نہیں تھا
یہ سب یہاں بتا نے کا مقصد یہ ہے کہ شادی کرنے کہ بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ایک عزت دار لڑکی سے ایک با کردار لڑکی سے شادی کرکے آپ کو جو سکون ملے گا وہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے آیاتیں لگانے سے قرآن کی تصاویر لگانے سے ایمان مکمل نہیں ہوتا اور میں خود کوئی مولوی نہیں جو لوگوں کہ ایمان کہ بارے میں اپنی رائے دوں لیکن قدرت کا قانون ہے وہ نہیں بدل سکتا اور کسی کو دھوکا دینا کسی کا دل دکھا نا کسی پر تہمت لگانا جھوٹے الزامات لگانا یہ سب کرکے آپ کو بھی سکون نہیں آۓ گا اور ابھی تو زندگی شروع ہوئی ہے آگے بہت معاملات ہیں اللّہ کریم کی نظر میں سب برابر ہیں آٹھ سال کا دھوکا آٹھ دن میں ختم نہیں ہوگا
اللّہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے
مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا.
جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے
جامع ترمذی، حدیث نمبر 1315
یہاں سب کچھ لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ وہ یہ سب پڑھے اور میں اللّہ کو حاظر جانکے کہتا ہوں اب اگر اس نے میرے یا میرے خاندان کے کسی بھی انسان سے تعلق رکھنے کی کوشش کی چاہے یا اس کے بھائی ہوں میں نے ۴ اگست کو بھی اس کی عزت رکھ لی ہے لیکن اب اسکا وہ حال کروں گا کہ سارا خاندان زندگی بھر یاد رکھے گا اور اب صبر کا پیمانا لبریز ہوگیا ہے ۴ اگست کو میں نے اپنے باپ کو بڑی مشکل سے روکا تھا اب جو میں حال کروں گا وہ ان کے غمان میں بھی نہیں ہوگا مجھے میری ماں اور باپ کی تکلیف یاد ہے میں نےاس سب کے بعد بھی اس بغیرت کی عزت کی ہے اب اس کے ہاتھ میں ہے کہ میرا پیچھا چھوڑدے جسم کی بھوک کہیں اور جاکے پوری کرے میں ایک عزت دار مرد ہوں اور عزت سے اسے اپنی بیوی ہی بنانا چاہتا تھا لیکن وہ عورت گھر والی نہیں بلکہ باہر والی بن کہ رہنا چاہتی تھی اللّہ ایسے لوگوں سے ہماری حفاظت فرمائے یقینن اب ایسا وقت آگیا ہے کہ مرد عورتوں سے محفوظ رہیں خاص طور پر ایسی عورتوں سے اللّہ ہماری حفاظت فرمائے آمین



Ameen ❤️Mri Jan Kuch rishta allah khud khatam karta ha ka hamri zingai kharab na ho ❤️
ReplyDelete